Urdu SMS: SMS Zone
31 Oct 2017 - 23:20 * REHAN DS
Urdu Ghazals
گلاب آنکھیں، شراب آنکھیں
یہی تو ہيں لا جواب آنکھیں
انھی میں الفت،انھی میں نفرت
ثواب آنکھیں، عذاب آنکھیں
کبھی نظر میں بلا کی شوخی
کبھی سراپا حجاب آنکھیں
کبھی چھپاتی ہيں راز دل کے
کبھی ہيں دل کی کتاب آنکھیں
کسی نے دیکھی تو جھیل جیسی
کسی نے پائى سراب آنکھیں ..
وہ آئے تو لوگ مجھ سے بولے
حضور آنکھیں، جناب آنکھیں
عجیب تھا گفتگو کا عالم
سوال کوئى،جواب آنکھیں
یہ مست مست بے مثال آنکھیں
مصوری کا ..........کمال آنکھیں
شراب رب نے حرام کر دی
مگرکیوں ہیں حلال آنکھیں ..
ہزاروں ان پر قتل ہوں گے
خدا کے بندے سنبھال آنکھیں
0 1 0
Comments 15
1 Nov 2017 - 18:16
* REHAN DS
Topic Starter
کچھ با تیں تھیں۔۔۔
جو کہتے کہتے ہونٹوں پر بے جان ہوئیں
کچھ آنکھیں تھیں ۔۔۔
جو خوابوں سے ویران ہوئیں
کچھ خواب تھے ۔۔۔
جن کو سچ ہونے کا سودا تھا
کچھ دن تھے۔۔۔
جن میں جینے کا اک دھوکا تھا

کچھ موسم تھے۔۔۔
جو ہم سے باتیں کرتے تھے
کچھ وعدے تھے۔۔۔
جو کھل جانے سے ڈرتے تھے
اک جیون تھا۔۔۔
اک آس تھی اس کے دامن میں
وہ جیون دُکھ میں ختم ہوا
اور آس سفر میں ٹوٹ گئی
سب جس کے دم سے قائم تھا
وہ دھوپ سنہری روٹھ گئی
0
31 Oct 2017 - 23:35
* REHAN DS
Topic Starter
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الہیٰ یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزۂ و عشو ہ وادا کیا ہے
شکن زلف عنبری کیوں ہے
نگہہ چشم سرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
ہم ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہو گا
اور درویش کیا صدا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مُفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے
0
31 Oct 2017 - 23:22
* REHAN DS
Topic Starter
اُس نے اپنا بنا کے ، چُھوڑ دیا
کیا رہائی ہے ، کیا اسیری ہے
لوگ جانتے ہیں اب تیرے نام سے
کیا گُمنامی ہے ، کیا مشہوری ہے
مُجھ میں بس کر بھی میرا نہیں
کیا نزدیکی ہے ، کیا دوری ہے
سب کچھ ہے پاس اِک تیرے سوا
کیا بادشاہی ہے ، کیا فقیری ہے
سب کُچھ ہو کر بھی کُچھ نہیں
کیا عزت ہے ، کیا بے توقیری ہے
کُھو کر خواب پائی ہے تنہائی
کیا غُربت ہے ، کیا امیری ہے
ہیں ندی کے کناروں جیسے ہم
کیا مُحبت ہے ، کیا مجبوری ہے
جُھکتے ہیں لوگ اب گرانے کیلئے
کیا عاجزی ہے ، کیا مغروری ہے
زندگی میں جب تُم نہیں حاصل
کیا پُوری ہے ، کیا ادھوری ہے
معراجِ عشق ہے ، ہجر مُسلسل
کیا اُجرت ہے ، کیا مزدوری ہے
تُم ، سانس ، زندگی ، جُدائی ،
کیا لازم ہے کیا غیر ضروری ہے
روشن چہرے ، پتھر جیسے دل
کیا نُور ہے ، کیا بے نُوری ہے
بھُول گئے سب ، بعد از مطلب
کیا دستور ہے کیا دستوری ہے
جینا محال بِنا اشعار کہے ، کبیر
کیا شعوری ہے ، کیا مجبوری ہے
1
< 1 2
Online: 1 & 45