Blog - یاجوج ماجوج

یاجوج ماجوج



حضرت ذوالقرنین جب دیوار تعمیر کر رہے تھے، تو اس وقت یاجوج ماجوج کے حملہ نہ کرنے کی چند اہم وجوہات مفسرین اور مورخین نے بیان کی ہیں.

​​یاجوج ماجوج کی قوم ایک ایسے علاقے میں رہتی تھی جو دو بڑے اور بلند پہاڑوں کے درمیان ایک قدرتی درے کے ذریعے دوسری انسانی آبادیوں سے جڑا ہوا تھا۔

وہ لوگ اسی ایک تنگ راستے سے نکل کر فساد مچاتے تھے۔

جب حضرت ذوالقرنین نے دیوار بنانا شروع کی، تو وہ دراصل اسی تنگ راستے کو بند کر رہے تھے۔

اس درے کے علاوہ ان کے پاس باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کیونکہ باقی اطراف سے وہ بلند و بالا پہاڑوں میں گھرے ہوئے تھے۔

​​کچھ روایات اور تفاسیر کے مطابق، یاجوج ماجوج کی قوم عقل و فہم میں عام انسانوں سے کمزور تھی یا وہ اپنی وحشیانہ زندگی میں مگن تھے۔

جب دیوار کی تعمیر ہو رہی تھی، تو شاید انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوا

کہ ان کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جا رہا ہے، یا وہ اس تعمیراتی عمل کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔

​​قرآنِ کریم (سورہ کہف) میں ذکر ہے کہ حضرت ذوالقرنین نے دیوار بنانے کے لیے لوہے کے بڑے بڑے تختوں کا استعمال کیا اور پھر ان پر پگھلا ہوا تانبا ڈالا۔

یہ ایک نہایت تیز رفتار اور مضبوط انجینئرنگ کا کام تھا۔

ممکن ہے کہ تعمیر کے دوران جب تک وہ لوگ حملے کے لیے تیار ہوتے، دیوار اتنی بلند یا مضبوط ہو چکی تھی کہ ان کے لیے اسے پار کرنا ممکن نہ رہا۔

​​حضرت ذوالقرنین ایک عظیم بادشاہ اور اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کے تمام اسباب اور طاقت عطا کر رکھی تھی۔

اللہ کا رعب اور غیبی مدد ان کے ساتھ تھی، جس کی وجہ سے وہ وحشی قوم ان کے کام میں مداخلت کرنے کی ہمت نہ کر سکی۔

​​تاریخی اور تفسیری اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج ماجوج کا طریقہ واردات "چھاپہ مار"حملوں جیسا تھا۔

وہ اچانک نکلتے، لوٹ مار کرتے، فصلیں تباہ کرتے اور واپس اپنے غاروں یا پہاڑی علاقوں میں چھپ جاتے۔

وہ کسی منظم فوج کی طرح سامنے آ کر جنگ نہیں لڑتے تھے۔ جب دیوار کی تعمیر شروع ہوئی،

تو وہاں ایک عظیم لشکر اور بہترین انتظامات موجود تھے، جس نے ان کی ہمت پست کر دی ہوگی۔

​​قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

​"فَمَا اسْطَاعُوا أَن يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا"

(پھر ان میں یہ طاقت نہ رہی کہ اس دیوار پر چڑھ سکیں اور نہ وہ اس میں سوراخ کر سکے)۔

​یاجوج ماجوج اس وقت بھی پہاڑوں کے پیچھے ہی تھے، لیکن وہ اللہ کی حکمت اور حضرت ذوالقرنین کی عظیم الشان مہم کی وجہ سے بے بس کر دیے گئے تھے۔

وہ دیوار ان کے لیے ایک ایسی قید بن گئی جسے وہ قیامت کے قریب اللہ کے حکم تک عبور نہیں کر سکیں گے۔

Islamic
Comments 0
No comments yet
Sorry, comments are not available for you
All Blogs
Advertisement

Play Games and Earn
Real earning website